1 2 3
’’ جواب ِ شکوہ ‘‘ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر …
’’ شکوہ ‘‘ کیوں زیاں کار بنوں ، سود فراموش رہوں فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش…
مزاحیات بلاگ پر آپ کا استقبال کیا جاتا ہے
Social Plugin